امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ہونے والا نقصان سرکاری سطح پر بتائے گئے نقصانات سے کہیں زیادہ ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 228 امریکی فوجی عمارتیں اور سازوسامان متاثر یا تباہ ہوئے، جن میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی آلات اور دفاعی نظام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے نقصانات کو نسبتاً کم ظاہر کیا گیا، جبکہ حقیقت میں نقصان کی شدت زیادہ تھی۔
اہم نکات
- قطر کے العدید ایئربیس پر مواصلاتی مراکز کو نقصان پہنچا
- بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈے متاثر ہوئے
- پیٹریاٹ اور THAAD دفاعی نظام بھی جزوی طور پر ناکارہ ہوئے
- کچھ مقامات پر طیارے اور ری فیولنگ ٹینکرز کو بھی نقصان ہوا
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض امریکی اڈوں کو ایرانی حملوں کے بعد خالی کروایا گیا اور اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت کو کم سمجھا اور اپنے اڈوں کی دفاعی تیاری مکمل نہیں رکھی۔
واشنگٹن پوسٹ نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر ابتدائی تخمینہ ہیں، اور اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
