چین میں ایک 8 سالہ ایرانی بچہ، رادین، کئی ہفتے ایران میں پھنسے رہنے کے بعد آخرکار اپنے اسکول اور دوستوں سے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہوگیا، جس موقع پر پورا ماحول جذباتی ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق رادین جنوری میں اپنے خاندان کے ساتھ ایران گیا تھا، لیکن بعد میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور سفری مشکلات کے باعث وہ تقریباً 42 دن تک چین واپس نہ جا سکا اور اسکول سے اس کا رابطہ بھی منقطع رہا۔
واپسی کی کہانی
- 27 اپریل کو رادین چین کے اسکول واپس آیا
- اس کے دوستوں اور اساتذہ نے اسے دیکھ کر خوشی اور جذبات کا اظہار کیا
- بچوں نے اسے گلے لگا کر خوش آمدید کہا
رادین نے بتایا کہ اس نے اساتذہ سے درخواست کی تھی کہ اس کی واپسی کے بارے میں دوستوں کو پہلے نہ بتایا جائے تاکہ یہ ایک سرپرائز ہو۔
اس نے کہا:
“میں روز امید کرتا تھا کہ جلد چین واپس جاؤں گا اور اپنے دوستوں سے ملوں گا۔”
پس منظر
رادین کے والدین چین کے شہر شاؤشینگ میں کاروبار کرتے ہیں اور گزشتہ تین سال سے وہیں مقیم ہیں۔ جنوری میں وہ خاندان کے ساتھ ایران گیا تھا، لیکن بعد میں ایران میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے واپسی ممکن نہ ہو سکی۔
بعد میں خاندان نے اسکول سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ محفوظ ہیں اور اپریل کے آخر میں چین واپس پہنچ جائیں گے۔
اسکول کا ردعمل
رادین کی ٹیچر کے مطابق کلاس کے بچے مسلسل اس کی واپسی کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔ اسکول انتظامیہ نے اس دوران اس کا انتظار جاری رکھا۔
رادین کی والدہ نے اسکول کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں بھی ادارے نے بچے سے رابطہ اور اس کی واپسی کا انتظار برقرار رکھا۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک بچے کی واپسی کی کہانی ہے بلکہ اسکول، اساتذہ اور بچوں کے درمیان جذباتی تعلق کی ایک مثال بھی بن گیا ہے۔
