اسلام آباد: حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک بعد ازاں ایک ایسی مہم میں تبدیل ہو گئی جس کا مقصد پاکستان کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ابتدا میں سماجی اور معاشی مطالبات کے لیے سرگرم ہوئی، تاہم بعد میں اس کی سرگرمیاں سیاسی نوعیت اختیار کر گئیں۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسے “قابلِ اعتماد شواہد” موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر بیرونی عناصر نے، خصوصاً برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے، اس تحریک کو مالی، تشہیری اور تنظیمی معاونت فراہم کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک نے سماجی و معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی مہم کی شکل اختیار کر لی۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم کے دوران آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور بعض رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نظام میں پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے جیسے مطالبات بھی سامنے آئے۔
نوٹ: خبر میں شامل تمام الزامات اور دعوے حکومت کو پیش کی گئی انٹیلی جنس رپورٹ سے منسوب ہیں۔ مذکورہ کمیٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے، اور ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
