اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا ہے کہ انبیائے کرامؑ، مقدس شخصیات کی شبیہ، بصری تمثیل یا ان کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی بصری مواد کی اشاعت شرعاً ناجائز ہے، اور اس سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے تاکہ ان مقدس ہستیوں کے مقام و مرتبے کا تقدس برقرار رہے۔
علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت ہونے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں ملکی صورتحال، قانونی امور اور عوامی مفاد سے متعلق متعدد معاملات پر غور کیا گیا، جبکہ مختلف قراردادوں کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق انبیائے کرامؑ اور دیگر مقدس شخصیات کی شبیہ یا بصری نمائندگی پر مشتمل مواد کی اشاعت شرعی طور پر درست نہیں، اس لیے میڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایسے مواد کی اشاعت سے گریز کرنا چاہیے۔
قرارداد میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزادیٔ اظہار رائے اور مذہبی حساسیت کے درمیان ذمہ دارانہ توازن برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ایسے معاملات میں عوامی جذبات اور مذہبی احترام کو ملحوظ رکھا جا سکے۔
قرارداد میں سفارش کی گئی کہ میڈیا ہاؤسز میں پیشگی جانچ پڑتال اور مؤثر ادارتی نگرانی (ایڈیٹوریل سپروژن) کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
