سکھر (دانش راجپوت): ڈسٹرکٹ کونسل سکھر کے چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ اجلاس منعقد کرتے ہوئے 5 ارب 39 کروڑ 64 لاکھ 57 ہزار روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا، جبکہ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 5 ارب 60 کروڑ 7 لاکھ 70 ہزار روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں 20 کروڑ 43 لاکھ 13 ہزار 437 روپے کے خسارے کا تخمینہ رکھا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کرتے ہوئے چیئرمین نے بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے او زیڈ ٹی (OZT) شیئر کی مد میں 1 ارب 39 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد آمدن متوقع ہے، جبکہ 4 ارب 22 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی منشور اور قیادت کے وژن کے مطابق عوام دوست اور متوازن بجٹ ہے، جس میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ملازمین کی پنشن، لیو انکیشمنٹ، ریٹائرمنٹ بقایاجات، نوجوانوں کے روزگار، خواتین کے لیے اسکوٹی پروگرام، ای وی بس سروس اور سکھر و روہڑی کے درمیان جمالو ٹرین سروس جیسے منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
سید کمیل حیدر شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلع سکھر کی ترقی کے لیے بھرپور تعاون کیا، جبکہ ضلع کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، سید ناصر حسین شاہ، نعمان اسلام شیخ، اویس قادر شاہ، جام اکرام اللہ دھاریجو اور فرخ شاہ کی معاونت سے ضلع بھر میں 20 ارب روپے سے زائد مالیت کی ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ کونسل سکھر، سندھ کی واحد کونسل ہے جس نے ضلع کے دیگر شہروں میں بھی اپنی نمائندگی بحال کی ہے۔
بجٹ اجلاس میں وائس چیئرمین اختر مہر سمیت کونسل کے تمام ارکان نے شرکت کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون تنویر خٹک، اسسٹنٹ کمشنر نیو سکھر بشریٰ منصور، ڈپٹی میئر ارشد مغل، اے ایس پی سکھر صہیب امین، چیئرمین مکی ٹاؤن محمد دین اور مختلف محکموں کے افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
